شیر و شکر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دودھ اور شکر کی طرح ملا ہوا، ملا جُلا، ایک جان دو قالب، متحد، گُھلا مِلا۔ "میں نے شاید ہی کوئی اور خاندان اتنا شیر و شکر ایک دوسرے . پر جان چھڑکنے والا دیکھا ہو۔"      ( ١٩٨٧ء، حیاتِ مستعار، ٦٧ )

اشتقاق

زبانِ فارسی سے مرکب عطفی ہے فارسی میں اسم 'شیر' بطور معطوف کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی اسم 'شکر' بطور معطوف الیہ ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز گا ہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دودھ اور شکر کی طرح ملا ہوا، ملا جُلا، ایک جان دو قالب، متحد، گُھلا مِلا۔ "میں نے شاید ہی کوئی اور خاندان اتنا شیر و شکر ایک دوسرے . پر جان چھڑکنے والا دیکھا ہو۔"      ( ١٩٨٧ء، حیاتِ مستعار، ٦٧ )